Tuesday, April 19, 2011

Urdu Short Story Be Jism By M.Mubin




افسانہ بے جسم از:۔ ایم مبین

واپس گھر پہونچنے تک ۹ بج گئے تھے ۔

اسے جھنجھلاہٹ ہورہی تھی ۔ ہر بار وہ چاہتا ہے کہ جلد سے جلد گھر پہونچے لیکن اُس کی یہ چاہ کبھی پوری نہیں ہوتی تھی ۔ آفس سے نکلنے کے بعد راستے میں کچھ نہ کچھ مسائل اُٹھ کھڑے ہوتے تھے اور وہ تو دس بجے ہی گھر پہونچ پاتا تھا ۔

کبھی آفس کی مصروفیات یا باس کا کوئی آرڈر اُسے آفس سے جلد نہ نکلنے کے لئے مجبور کردیتا تھا ۔ تو کبھی لمبی مسافت کا سفر اور سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات ۔

اس نے کبھی بھی اس کے گھر پہونچنے پر مایا کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی ۔

اسے دیکھ کر مایا کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں اُبھرتا تھا اور وہ کسی روبوٹ کی طرح بیزار سی اس کی خدمت میں لگ جاتی تھی ۔

خدمت کیا ، اُس کے اُتارے کپڑوں کو سلیقہ سے لے جاکر ہینگر میں لگانا ، اسے گھر میں پہننے والے کپڑے دینا ، جب وہ واش بیسن سے منہ دھوکر ہٹے تو ٹاول لے کر کھڑی رہنا ۔

اس کے بعد بہت مختصر سے معمولات ہوئے تھے ۔

دونوں ساتھ کھانا کھاتے ، تھوڑی دیر تک ٹی وی دیکھتے اور سوجاتے ۔ سویرے جلدی اُٹھ کر مایا اس کے لئے ٹفن بناتی اور وہ دفتر جانے کی تیاری کرتا اور آٹھ بجے سے پہلے گھر چھوڑ دیتا ۔

اس دِن جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو رگھو اطمینان سے بیٹھا کُرسی بنا رہا تھا ۔ مایا ٹی وی دیکھ رہی تھی ، اس کی آہٹ سن کر مایا نے پلٹ کر اُسے دیکھا ، اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں اُبھرا ، وہ دوبارہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہوگئی ۔

رگھو نے اس کی آہٹ پاکر سر اٹھا کر اسے دیکھا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا ۔

اس کے چہرے پر اطمینان اور ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی ۔

اس نے اندازہ لگالیا تھا ، سب کچھ ٹھیک ہے ۔

بجوکا اپنی جگہ کھڑا ہے ، اس کے سر کی جگہ رگھو کا سر لگا ہوا ہے اور وہ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے ۔

اسے اطمینان محسوس ہوتا ، جیسے یہ اطمینان اس کی سب سے بڑی دولت ہے ، اس کی زندگی کا حصول ہے ۔ اس اطمینان کو قائم رکھنے کے لئے وہ زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس اطمینان میں اس کی فتح یابی پنہاں ہے ۔

وہ ایک کسان ہے اس کے ماں باپ ، دادا ، پردادا کسان تھے۔گاؤں میں زراعت کرتے تھے۔اس نے کھیتی نہیں کی ہے۔ وہ اپنے گاؤں اور کھیت سے کوسوں دُور ہے ۔ لیکن اس کی فطرت نہیں بدل پائی ہے ۔ ایک کسان کی طرح اسے سب سے زیادہ فکر اپنے کھیت کی رہتی ہے ۔

لیکن یہاں تناظر بدل گیاہے ۔

اس کے پاس کھیت نہیں ہے وہ اپنی زمین ، کھیت ، گاؤں سے بہت دور ہے ۔اسے ان کی کوئی فکر نہیں ہے ۔

لیکن نئے تناظر نے اسے ایک نئی فکر دے دی ہے ۔

مایا ......

مایا اس کے لئے ایک مسئلہ ہے ۔ اس کی سب سے بڑی فکر ،پریشانی ہے ۔اس کی زندگی کی سب سے بڑی اُلجھن ہے ، اُس کی سب سے بڑی چنتا ہے ۔

مایا اس کی بیوی ۔

کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے مایا سے شادی کرکے سب سے بڑی غلطی کی ہے ۔

لیکن جب سنجیدگی سے سوچتا تو اسے یہ اپنی کوئی غلطی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔

اسے شادی تو کرنی تھی ، بنا شادی کے تو وہ جی نہیں سکتا تھا ۔

اگر مایا سے شادی نہیں کرتا تو کسی ریکھا ، رُوپا یا گنگا سے شادی کرتا ۔

اور جب اپنے حالات پر غور کرتا تو اُسے محسوس ہوتا ، جو بھی لڑکی اس کی بیوی بن کر آتی،اس کے لئے وہی مسئلہ ہوتی جو مایا ہے ۔

کبھی سوچتا مایا سے ہمیشہ کے لئے نجات پالے ۔

لیکن بھلا مایا سے نجات ممکن ہے ؟

کبھی سوچتا مایا کو اپنے گاؤں یا اس کے میکے بھیج دے ۔ لیکن دونوں میں سے کوئی بھی کام مسئلہ کا حل نہیں تھا ۔ وہ اور مایا اسی مسئلہ میں گھری رہتی جس میں آج گھری ہے ۔

آج کم سے کم مایا کے پاس یہ احساس تو ہے کہ رات کو اس کا پتی اس کے پاس ہوتا ہے ۔ اگر وہ مایا کو اپنے گاؤں یا اس کے میکے بھیج دے تو اس سے یہ احساس بھی چھن جائے گا ۔ تب اس کی حالت کیا ہوگی ؟ اور وہ کیا کر ڈالے گی اس کے تصور سے ہی اس کی رُوح کانپ اُٹھتی تھی ۔

مایا اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ مایااسے پسند ہے وہ مایا کو بے حد چاہتا ہے ۔ مایا بھی ایک سعادت مند بیوی کی طرح اس کی ہر طرح سے خدمت کرتی ہے ۔ اس کا ہر طرح سے خیال رکھتی ہے ، اس نے اسے زندگی میں کبھی کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دی ہے ۔

اور اس نے بھی اپنی جان سے بڑھ کر مایا کا خیال رکھا ہے ۔ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اپنے اور مایا کے لئے ہی تو کرتا ہے ۔ ان کی زندگی میں اور کوئی بھی نہیں ہے ۔ اسے مایا کی ہر خواہش ، ہر مانگ کو پوری کرنے میں رُوحانی مسرت ہوتی ہے اس کا دِل چاہتا ہے کہ مایا اس سے کوئی چیز مانگے اور فوراً مایا کی مانگ پوری کرے یا مایا کی مانگ پوری کرنے کے لئے اپنے تن ، من ، دھن کی بازی لگادے ۔

لیکن مایا کا روےّہ اُس کے لئے ایک سوالیہ نشان تھا ۔

صرف کبھی کبھی ہی نہیں ، ہمیشہ اسے مایا کے روےّے سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے مایا اس کے ساتھ خوش نہیں ہے یا مایا اسے شریک حیات کے طور پر پاکر خوش نہیں ہے ۔

اِ س بات کو سوچ کر اس پر ایک افسردگی کا طوفان چھا جاتا تھا ۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا تھا اور دِل کی دھڑکنیں ڈوبنے لگتی تھی ۔

" آخر مجھ میںکیا کمی ہے ، میں نے مایا کی کسی خواہش کو پورا نہیں کیا ہے ، مایا کی زندگی میں ایسی کون سی کمی رکھی ہے جو مایا میرے ساتھ خوش نہیں ہے ۔ ؟ "

وہ خود سے یہ سوال بار بار کرتا تھا ۔ لیکن اس میں مایا سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں تھی ۔

وہ ڈرتا تھا کہ اگر مایا اس بات کا اقرار کرلے کہ وہ اس کے ساتھ خوش نہیں ہے اور اپنی زندگی کی اس کمی کے بارے میں بتادے جو وہ پوری نہیں کرپارہا ہے تو شاید اس کی زندگی میں ایسا طوفان آجائے گا جو دونوں کو بہالے جائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک دُوسرے کو جدا کردے گا ۔

یہ سوال جیسے اس طوفان کو روکنے والا دروازہ تھا اور وہ خود یہ سوال پوچھ کر اس طوفان کا دروازہ کھول کر اس کی تاب لانے کی سکت نہیں رکھتا تھا ۔

دھیرے دھیرے اسے مایا کی خواہشات کا پتہ چلنے لگا تھا ۔ مایا چاہتی تھی کہ وہ مہینے میں ایک دوبار کسی دُوسرے شہر سیر و تفریح کے لئے جائے ، ہر شام جلد گھر آجائے اور اسے لے کر شہر کے تفریحی مقامات پر جائے ، ہوٹلوں میں کھانا کھائے ، فلمیں دیکھے ، اپنے دوست اس کی سہیلیوں کے گھر پارٹیوں میں لے جائے ۔

اور اتوار کا دِن کا تو ایک لمحہ بھی گھر میں نہ گذارے ۔

لیکن سب کچھ مایا کی اُمیدوں کے برخلاف ہوتا تھا ۔

آفس کی مصروفیات کی وجہ سے وہ رات نو ، دس بجے سے پہلے گھر نہیں آپاتا تھا ۔

کوئی سرکاری نوکری نہیں تھی کہ پانچ بجے بھی اگر دفتر چھوڑدیا جائے تو کوئی جواب طلب کرنے کی ہمّت نہیں کرے گا ۔

پرائیویٹ سروس تھی ۔ ہر لمحہ ، قدم قدم پر باس منیجمنٹ کا خیال رکھنا پڑتا تھا ۔

آفس آنے کا وقت متعےّن تھا ۔ اس میں تاخیر نہیں ہوسکتی تھی ۔ لیکن آفس سے جانے کا کوئی وقت متعےّن نہیں تھا ۔ اگر رات کے بارہ بھی بج جائے تو بنا کام پورا کئے گھر جانے کی اجازت نہیں تھی ۔

مایا کو اس کی اس مجبوری کا علم نہیں تھا ۔

ویسے وہ مایا کو سیکڑوں بار اِس بارے میں سمجھا چکا تھا ۔

لیکن مایا کی خواہشات کے آگے اس کی مجبوریاں کچھ نہیں تھیں ۔ ہفتہ بھر تو صبح آٹھ بجے سے نو، دس بجے تک گھر کے باہر ہی رہنا پڑتا تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد بھلا جسم میں اتنی قوت کہاں باقی بچتی تھی کہ کہیں باہر جایا جائے یا رات زیادہ دیر تک جاگ کر آوارگی سے لُطف اندوز ہوا جائے ۔ کیونکہ سامنے صبح جلدی اُٹھ کر آفس جانے کا آسیب منہ پھاڑے کھڑا ہوتا تھا ۔

اتوار کو اس کا من چاہتا تھا ، وہ ہفتہ بھر کام کی تھکن اُتارے ۔ اور دِن بھر سوتا رہے ، دِن بھر تو سو نہیں پاتا تھا ، اُٹھ کر تےّار ہونے اور دوپہر کا کھانا کھانے میں دو بج جاتے تھے ۔ پھر ایک دو گھنٹہ کے لئے بھی باہر جانا ہوگیا تو اچھی بات تھی ۔ اگر کوئی مہمان آگیا تو وہ بھی ممکن نہیں تھا ۔ ایسے میں مایا کی خواہشات کیسے پوری ہوسکتی تھیں ۔

اس کے آفس جانے کے بعد وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی ۔ اس کا آفس بھی گھر سے ۶۰ ، ۷۰ کلومیٹر دور تھا ۔ وہ مایا کی خبر بھی نہیں لے سکتا تھا ۔ نہ مایا اس کی خیریت پوچھ سکتی تھی ۔

شادی کے بعد برسوں تک یہی معمولات چلتے رہتے ۔

ان میں کچھ دِنوں کی تبدیلی اس وقت آئی تھی جب وہ دونوں ایک دودِنوں کے لئے گاؤں جاتے تھے ۔ لیکن یہ صرف سالوں میں ہی ممکن تھا ۔

پھر دھیرے دھیرے اسے ایسی خبریں ملنے لگیں جن کو سن کر اس کی زندگی کا سکون درہم برہم ہوجاتا تھا ۔

آس پڑوس والوں نے بتایا کہ اس کے آفس جانے کے بعد مایا گھنٹوں گھر سے غائب رہتی ہے۔ اس سے ملنے اجنبی لوگ گھر آتے ہیں اور گھنٹوں گھر میں رہتے ہیں ۔

اس نے اس سلسلہ میں جب مایا سے پوچھا تو مایا کے پاس اس کا بڑا سیدھا سا جواب تھا ۔

آج اس سہیلی کے گھر اس سے ملنے گئی تھی ۔

ملنے کے لئے آنے والا وہ مرد میری اس سہیلی کا شوہر تھا ۔ وہ یہ چیزیں لینے کے لئے گھر آیا تھا ۔

مایا کے اس جواب کے بعد دوبارہ کوئی سوال کرنے کی اس کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی ۔

دھیرے دھیرے ایسے ثبوت ملنے لگے کہ اس کا شک یقین ہے اور مایا کی ہر بات جھوٹی ہے ۔

گھر میں فون تو نہیں تھا جس کے ذریعے پتا لگایا جاسکے کہ مایا گھر میں ہے یا نہیں ؟ پڑوس میں فون تھا ، دوچار بار اس نے پڑوس میں فون لگا کر مایا کو فون پر بلاناچاہا ، ہر بار اسے جواب ملا کہ گھر پر تالہ لگا ہے ۔

رات میں اس سلسلہ میں اس نے مایا سے پوچھا تو مایا کا جواب تھا ۔

" وہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں ، میں تو ایک لمحہ کے لئے بھی گھر سے باہر نہیں نکلی ۔ پر تالہ لگا ہے ، میں گھر میں نہیں ہوں ، یہ کہہ کر وہ مجھے بدنام کرنا چاہتے ہیں اور تمہارے دِل میں بدگمانی پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ ،

مایا کا جواب اسے اُلجھن میں ڈال دیتا تھا ۔

سچائی کا پتہ اس وقت لگ سکتا تھا جب گھر میں کوئی گھر کا بڑا ہو ، گھر کے کسی بھی چھوٹے بڑے آدمی کے گھر میں آئے مایا کا گھر سے باہر قدم نکالنا مشکل تھا ۔ نہ اس کے ہوتے کوئی غیر مرد گھر میں آسکتا تھا ۔

اُس کا دُنیا میں کوئی بھی تو نہیں تھا ۔ماں ، باپ ، بھائی ، بہنیں ، کوئی بھی تو نہیں جس کو وہ گھر میں لاکر رکھتا تاکہ مایا کے پیروں میں زنجیریں پڑی رہے ۔

ایک ہی راستہ تھا جو مایا کو راہ پر لاسکتا تھا ۔ لیکن وہ راستہ بھی اسے مسدُود محسوس ہورہا تھا ۔

اسے اپنا بچپن یاد آیا ۔

وہ بچپن میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کھیتوں میں جایا کرتا تھا ۔ ماں باپ دِن بھر کھیتوں میں کام کرکے اپنے خون پسینے سے سیراب کرکے کھیتوں کو لہلہاتے تھے ۔

جب فصل پک جاتی تو اس فصل کو پرندوں سے بچانا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا تھا ۔

اس کے لئے وہ کئی طریقے استعمال کرتے تھے ۔

ڈھول تاشے بجا کر شور مچاکر پرندوں کو اُڑاتے تھے ۔

اور ہر فصل کے ساتھ ایک بجوکا تو بنایا جاتا ہی ہے ۔

لکڑیوں سے بنا ہوا بجوکا ، جس کو پرانے کپڑے پہنادئے جاتے تھے ۔ اور سر کی جگہ ایک ہانڈی لگادی جاتی تھی ۔ جس پر یہ بھیانک آنکھیں منہ ، ناک وغیرہ بنادئے جاتے تھے ۔ تب پرندے اسے کوئی انسان سمجھ کر پھر اس طرف کا رُخ نہیں کرتے تھے ۔

اسے شدت سے احساس ہونے لگا اسے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ایک بجوکا کی ضرورت ہے ۔ جو اس کے کھیت کی حفاظت کرسکے ۔

کچھ ماہ قبل اسے اس کے چاچا کا خط ملا تھا ۔

" رگھو نے بہت پریشان کر رکھا ہے ۔ ۱۸ سال کا ہوگیا ہے کوئی کام دھندا نہیں کرتا ہے۔ اسکول وغیرہ تو بہت پہلے ہی چھوڑ چکا ہے ۔ اسے اپنے پاس بلا کر کسی کام دھندے سے لگادو ۔ ورنہ بگڑ جائے گا ۔ "

اس خط کو یاد کرکے اس کی آنکھیں چمک اُٹھی تھیں ۔

اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اسے اپنے گھر کے لئے بجوکا مل گیا ہے ۔

رگھو اگر صرف اس کے گھر میں رہے تو بھی کافی ہوگا ۔ بھلے سے وہ کوئی کام نہ کرے ، کم سے کم اس کے گھر ، مایا کی حفاظت تو کرے گا ۔ اس نے چاچا کو خط لکھا کہ رگھو کو اس کے پاس بھیج دیں ۔

آٹھ دِن بعد ہی رگھو اُن کے پاس آگیا ۔

اور جیسے اس کی ساری پریشانیاں دُور ہوگئی تھیں ۔

وہ دِن بھر گھر میں بیٹھا ٹی وی پر فلمیں دیکھا کرتا تھا یا گھر کے چھوٹے موٹے کام کیا کرتا تھا ۔

رات کو جب وہ گھر آتا تو مایا کو اپنے کام میں مصروف پاتا اور رگھو کو اپنے ۔

وہ اپنے تصور کے بجوکا کو دیکھتا تو اس کے سر کی جگہ اسے رگھو کا سر لگا نظر آتا اور وہ مسکرا کر اس سے کہتا میں اپنا فرض بخوبی نبھا رہا ہوں ۔

رگھو کے آجانے سے مایا بھی بجھی بجھی سی تھی ۔ اس کی ساری آزادی سلب ہوگئی تھیں لیکن وہ چاہ کر بھی اس کے خلاف احتجاج نہیں کرپارہی تھی ۔

ایک دوبار دبے لفظوں میں اس نے اس سے کہا بھی ۔

" یہ رگھو کب تک یوں ہی گھر میں بیٹھا رہے گا ۔ اس کے لئے کوئی کام تلاش کرو ، ورنہ اس کے ماں باپ ہم پر الزام لگائیں گے کہ ہم سے ایک چھوٹا کام بھی نہیں ہوسکا ۔ ہم رگھو کو کام بھی نہیں دِلا سکتے ۔ "

" میں اس کے لئے کام تلاش کررہا ہوں ۔" کہہ کر وہ مایا کو لاجواب کردیتا تھا ۔

وہ سکون بھری زندگی گذار رہا تھا ۔ اس کی ساری پریشانیاں ، وسوسے ، بدگمانیاں ، شک و شبہات رگھو کے گھر آجانے کی وجہ سے جیسے ختم ہوگئے ۔

ایک دِن جب وہ آیا تو اسے گھر کا ماحول کچھ بدلا بدلا سا محسوس ہوا ۔

رگھو الماری کی صفائی کرتا ایک پوربی لوک گیت گارہا تھا ۔

اور مایا بھی دھیرے دھیرے کچھ گنگنا رہی تھی ۔

اس کا چہرہ پھول سا کھلا ہوا تھا ، چہرے اور آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی ۔

اس کا دِل دھڑک اُٹھا ۔

اس نے اپنے تصور کے بجوکا کو دیکھا تو اسے ایک جھٹکا سا لگا ۔

اسے اس بجوکا کے سر کی جگہ رگھو کے بجائے اپنا سر لگا ہوا دِکھائی دے رہا تھا ۔

Add:-
M.Mubin
303- Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI – 421 302
Dist. Thane ( Maharashtra)

0 comments:

Post a Comment